17 جنوری 2012 - 20:30

سعودي عرب کے شيعہ مسلمان خاص طور پر اس ملک کے مشرقي علاقوں کے شيعہ مسلمان بہت ہي سخت حالات ميں زندگي گذار رہے ہيں -

ابنا: سعودي عرب کے شيعہ مسلمان خاص طور پر اس ملک کے مشرقي علاقوں کے شيعہ مسلمان بہت ہي سخت حالات ميں زندگي گذار رہے ہيں -
سعودي عرب کے شيعہ مسلمانوں کو ملک کے ديگر شہريوں جيسے مساوي حقوق حاصل نہيں ہيں اور آج بھي ان پر آل سعود کي حکومت تشدد سے کام لے رہي ہے - سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں مقامي ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودي سيکورٹي فورسز شيعہ مسلمانوں کو بري طرح زد و کوب کرتي ہيں ، چيک پوسٹوں پر شيعوں کو کافي ديرتک کھڑا رکھنا ،ان سے دير تک باز پرس کرنا مشرقي علاقوں ميں بلااشتعال فائرنگ کرکے ان ميں رعب و وحشت پيدا کرنا اور غير اخلاقي و شہري قوانين کي خلاف ورزي کرنے کے بہانے اس علاقے کے باشندوں کو زد و کوب کرنا آل سعود حکومت اور اس کي سيکورٹي فورسز کے مظالم کي محض چند مثاليں ہيں - يہ سارے واقعات ايک ايسے وقت ہورہے ہيں جب پچھلے مہينوں کے دوران ان علاقوں کے شيعہ مسلمانوں کو بڑي تعداد ميں گرفتار بھي کيا گيا ہے اور يہ سلسلہ بدستوري پوري قوت کے ساتھ جاري ہے -

بہت سے سياسي مبصرين کا کہنا ہے کہ سعودي عرب کي سيکورٹي فورسز کے ان اقدامات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سعودي حکومت مختلف اسلامي ملکوں ميں اسلامي بيداري کي لہر سے سخت خوفزدہ ہوگئي ہے -

پچھلے چند مہينے سے سعودي عرب کے مشرقي علاقوں کے عوام ہمسايہ عرب ملکوں ميں اسلامي بيداري کي لہر سے حوصلہ لے کر اپنے حقوق اور اسي طرح ملک ميں سياسي اصلاحات کے نفاذ کے مطالبے کے حق ميں پرامن مظاہرے کررہے ہيں - مگر سعودي حکام اپنے ملک کے عوام کے مطالبات پر توجہ دينے کے بجائے انہيں گوليوں سے جواب دے رہيں -

سعودي عرب کے مشرقي علاقوں کے عوام پر حکومت کا تشدد ايسے وقت انجام پارہا ہے جب ان علاقوں کے عوام کو آل سعود خاندان کے دور حکومت ميں ہميشہ بنيادي حقوق سے محروم رکھا گيا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے درجے کے شہري کي حيثيت سے ديکھا جاتا رہا ہے -

اگرچہ انساني حقوق کي بہت سي نام نہاد تنظيموں نے سعودي عرب ميں انساني حقوق کي پائمالي کے واقعات پر آل سعود حکومت پر تنقيد کي ہے ليکن ان اداروں يا تنظيموں نے سعودي عرب کے شيعہ مسلمانوں کے مصائب و آلام کم کرنے کے سلسلے ميں کوئي بھي عملي قدم نہيں اٹھايا ہے -

اسي لئے يہ بات صراحت کے ساتھ کہي جاسکتي ہے کہ سعودي عرب کي حکومت کے ذريعے انساني حقوق کي پائمالي کے تعلق سے انساني حقوق کے عالمي اداروں کي خاموشي نے ہي سعودي حکمرانوں کو انساني حقوق کي کھلم کھلا خلاف ورزي کرنے کے سلسلے ميں مزيد جرائت دے دي ہے اور وہ بلاجھجھک عوام پر تشدد کي پاليسي پر عمل کررہے ہيں -

سعودي عرب ميں جو بھي آواز حکومت کي تنقيد ميں بلند ہوتي ہے اس کو فورا طاقت اور تشدد کے ذريعے دبا دئے جانے کي کوشش ہوتي ہے - اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت سعودي عرب کي جيلوں ميں تيس ہزار قيدي ايسے ہيں جو کسي مقدمے کا سامنا کئے بغير قيد و بندکي زندگي بسر کررہے ہيں ان کا جرم صرف اتنا ہي ہے کہ انہوں نے حکومت کي کارکردگي پر تنقيد کي ہے.
..............

/169